وسائل کی فراوانی اورقلت مطالعہ۔کثرت کتب

وسائل کی فراوانی اورقلت مطالعہ۔کثرت کتب

وسائل کی فراوانی اورقلت مطالعہ۔کثرت کتب
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب کتب کمیاب ہوا کرتی تھیں۔لائبریریوں کی ممبر شب ایک اعزاز مانا جاتا تھا۔ آج سے تیس سال پہلے جب دیال سنگھ کائبریری لاہور کی ممبر شپ حاصل کرنے کے لئے، جس تگ و دو سے کام لینا پڑا تھا آب بھی ذہن میں محفوظ ہے،مطالعہ کی کثرت و شوق کا یہ عالم تھا چار کتب ایک وقت میں جاری کی جاتی تھیں  ایک ماہ کاوقت دیا جاتا تھا میں بعض اوقات دوسرے تیسرے دن تبدیلی کتب کے لئے چلاجاتا تھا۔لائبریرین کہتے تم نے اتنی جلدی یہ پڑھ بھی لیں؟ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ لوگ بار بار کتب کی زحمت سے بچنے کے لئے مجھے کیٹلاگ تک جانے اور خود کتاب تلاش کرنے کا کہنے لگے اس کے بعدان کمروں میں جانے کی اجازت مل گئی جہاں ذخیرہ کتب تھا،مجھے وہاں جاکر عجیب سا روحانی سکون نصیب ہوتا۔جو کتابیں اہم محسوس ہوتیں ان کا فوٹو کاپی کرالیتا۔قلت وسائل کا سامنا تھا کچھ کے نوٹس تیار کئے جاتے۔والد مرحوم و مغفور جب تک ہمارے سروں پر سلامت رہے یہ سلسلہ چلتا رہا۔آج بھی پرانی یادداشتوں میں یہ انمول شوق مدفون ملتا ہے اس کے بعد کمپیوٹر تک رسائی ہوئی پھر موبائل تک آج نٹ تک۔یہ سلسلہ تیس سالوں تک محیط ہے۔
آج تک وٹس ایپ گروپ بنے ہوئے ہیں  جن میں بے شمار کتب ہر موضوع پر شئیر کی جاتی ہیں۔ہمارے اپنے دو گروپ۔(1)سعد طبیہ کالج طلبہ(2) tibb4all
اور ایک ویب سائٹ۔۔۔https://www.tibb4all.com/ بنے ہوئے ہیں۔محتاط اندازے کے مطابق کئی ہزار کتب پوسٹ کی جاچکی ہیں۔
سچ کہوں تو جو مزہو سکون ان پرانی اور بوسیدہ کتب کے مطالعہ سے ملتا تھا اب نہیں ملتا۔اس قدر مواد ایک کلک پر موجود ہوتا ہے کہ پریشان ہوکر سب کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اب مطالعہ نہیں  ضرورت پیش نظر رہتی ہے۔ جہاں ضرورت کی چیز ملی سائٹ کھول کر سیرچ کرلیا۔جن کتب کو اہم سمجھ کر ہارڈ ڈسک میں جمع کیا تھا اب وہ بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں۔کئی کتابیں عدم دلچسپی کی وجہ سے ڈلیٹ کرنا پڑتی ہیں۔
کل کے مطالعہ اور آج میں فرق۔
راقم الحروف نے پچاس سے زائد کتب مختلف موضوعات پر لکھی ہیں۔کثرت کا ر ہجوم افکار نے مطالعہ کی گھڑیاں سلب کرلی ہیں ۔وہی کتب آج بھی رہمنائی کرتی ہیں جو برسوں پہلے مطالعہ کی تھیں حافظہ کی بنیاد پر جو مواد ذہن میں آجاتا ہے لکھنا شروع کردیتاہوں آج لکھتے وقت جو سہولت میسر ہے اس سے مدد لیکر ہاتھ خامہ فرسائی سے تھمتا نہیںہے۔حوالہ جات اور تائیدی مواد آسانی سے میسر آجاتا ہے یوں اصل ماخذ تک رسائی کے حصول میںزیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
نصابی کتب اور خارجی مطالعہ۔۔
دوران تعلیم اساتذہ کرام کثرت مطالعہ کے فضائل بیان فرمایا کرتے تھے۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ مطالعہ کے لئے وسائل و آسانی مسیر کی جائے تاکہ طلباء اچھے انداز میں مطالعہ کرسکیں۔آج ہمیں نٹ کی وجہ سے بے شمار کتب تک رسائی حاصل ہوچکی ہے ۔ہم اپنے نصابی مواد کے ساتھ ساتھ بہت سے تائیدی مواد تک رسائی رکھتے ہیں ۔ اس کے مفید و منفی پہلو دونوں رخ موجود ہیں۔پہلے اساتذہ کرام جو کتب مہیا کرتے تھے یا ان کے مطالعہ کی ترغیب دیا کرتے تھے پہلے خود مطالعہ کرتے تھے اس کے بعد برد اپنے طلباء کو مطالعہ کا فرمایا کرتے تھے۔ان مقامات کی نشاندہی فرمایا کرتے تھے جو طالب علم کی ذہنی سطح اور اسکے ذوق کے مماثلت رکھتی تھی۔اس لئے ان کتب سے ذۃنی بالیدگی اور علم میں اضافے کی شرح بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔آج کثرت دستیابی کتب نے ہمیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔PDFیا ٹیکسٹ کی صورت میں کتاب تو کوئی بھی مہیا کردیتا ہے لیکن اس کتاب پر ماہرانہ رائے اور خاص نکات کی نشاندہی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔پہلے مطالعہ اس لئے فائدہ مند ہوتا تھا کہ استاد نے رغبت دلائی ہے۔اس مطالعہ سے مقصد کی وضاحت ہوتی تھی۔آج کتاب تو ہے لیکن مفید نکات کی نشان دہی موجود نہیں ہے۔
دوسری بات اساتذہ کرام جہاں کتب کا انتخانب فرماتے تھے وہیں پر مصنفین کی بالغانہ رائے کو بھی مد نظر رکھتے تھے۔آج کتب ہیں لیکن پختگی رائے موجود نہیں ہے۔ مثلاََ آپ نے نٹ پر ایک کتاب دیکھی معلوم نہیں اس کے مصنف کی رائے اور اظہار خیال کا کیسا انداز ہے؟اب اس کتاب سے مستفید ہونا اور بہترین نتائج اخذ کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔جو لوگ مطالعہ کتب کا تجربہ نہیں رکھتے اور نہ ہی انہوں نے اخذ نتائج سے کوئی تجربہ ہے۔وہ اگر رائے قائم کربھی لیں گے تو وہ رائے ناقص ہوگی۔کسی بھی فن و ہنر میں ناقص رائے نقصان دیتی ہے۔۔
نصابی کتب کے ساتھ ساتھ ا سی موضوع پر دیگر مصنفین کی کتب کا مطالعہ اور غیر محقق لوگوں کی رائے پر دھیان دینا یقینا نقصان دہ پہلو ہے ۔نصابی کتب بہت  معیاری اور چھان پھٹک کر ترتیب دی جاتی ہیں۔نٹ ایک سوشل میدان ہے یوں سمجھیں کہ سوشل میڈیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں قابل لوگوں کے ساتھ ساتھ اکثریت جہلاء اور ناپختہ علم والوں کی ہے ۔تعداد میں چاہے کتنے بھی زیادہ کیوں نہ ہو لیکن کثرت رائے اور اونچی آوازیں تحقیق کی علامت تو نہیں ہوسکتیں۔قران کریم کی ایک آیت ذہن میں آرہی ہے۔وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (116) اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں گمراہ ہیں، اگر آپ ان کا کہنا مان لو گے تو وہ آپ کو اللہ کا راستہ بھلا دیں گے۔ یہ صرف خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔ 
اسی سے اندازہ کرلیں کہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے آپ کی نصابی پختگی میں کس قدر رخنہ ڈال سکتے ہیں۔پہلے اپنے ہنر میں پختگی حاصل کرلو اس کے بعد پوری زندگی پڑی ہے دوسروں کی باتیں سننے اور اظہار خیال کے لئے۔جیسے بچہ کی کامیابی کے لئے والدین اس کی توجہ صرف نصابی کتب کی طرف مبذو ل کراتے ہیں باقی تمام سرگرمیوں کو مضر خیال کرتے ہیں۔حتی کہ وہ کام جو والدین خود کرتے ہیں بچوں کو ان سے بھی دور رکھتے ہیں۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ بچہ نصابی کتب میں پختگی حاصل کرکے اپنے امتحانات میں کامیاب ہوجائے۔جب وہ تعلیمی مدت پوری کرلیتا ہے تو اسے دوسرے کاموں میں مصروفیت کی ترغیب دی جاتی ہے۔
علم میں پختگی کب آتی ہے؟
علم میں پختگی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک ذہن میں بھراہوا کور کباڑ کھرچ کر باہر نہیں کردیا جاتا۔بچپن میں ہمیں تختی لکھائی جاتی تھی۔لکھائی اور خوش خطی پر جزا ء و سزا کا فیصلہ ہوا کرتاتھا۔تختی دکھاکر اگلا سبق ملتا تھا۔لیکن اگلے سبق کے لئے ہمیں تختی کو دھوکر صاف کرنا ہوتا تھا جسےپھٹی پوچنا کہتے تھے۔لکھا ہوا اس لئے نہیں مٹایا جاتا تھا کہ وہ غلط ہے بلکہ اس لئے دھویا جاتا تھا کہ اگر پہلا لکھا ہوا نہ مٹایا گیا تو ملنے والا سبق نہیں لکھا جاسکتا۔آج بھی یہی اصول ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے کہ ہمیں جمع شدہ کوڑ کباڑ سے اپنے ذہن اور سوچوں کو صاف کرنا ہوگا تاکہ نصاب میں شامل کتب کو سمجھا جاسکے۔انسانی خاصیت ہے یہ کم علم بھی زیادہ علم کا دعویٰ کرتا ہے۔
ایک استاد اپنے طالب علم کو یہی تو بتاتا ہے کہ تمہارے ذہن میں جوباتیں جمع ہیں وہ کچرا ہیں جب تک پختگی حاصل نہیں کرگے اچھے برے کی پہچان نہیں ہوگی۔
مطالعہ نصاب کا ایک اور فائدہ۔
کسی بھی منزل تک پہنچنے کے لئے منزل کا تعین ضروری ہے۔مسافر کے لئے منزل کی طرف جانے والے راستے میں جو نشانی بتائی جاتی ہے دیکھنے والوں کے لئے وہ کوئی اہمیت رکھے یا نہ رکھے لیکن مسافر کے لئے وہ نشان منزل ہے۔نصابی کتب بھی نشان منزل ہوتی ہیں۔راستے میں آنے والے بہترین مقامات۔راہ چلتے ہوئے دیکھائی دینے والے روح پرور منظر مسافر کے قدم اٹھنے سے باز نہیں رکھ سکتے۔اسی پر قیاس کرتے ہوئے سمجھ لو کہ نصابی کتب منزل ہیں اور لوگوں کے تجربات راہ میں آنے والے مناظر ومقامات ہیں۔نصابی کتب میں پختگی کے بعد آپ کے پاس ایک پیمانہ و کسوٹی آجاتا ہے جس پر کھرے کھوٹے کو  پڑکھا جاسکتا ہے۔طالب علم جب اپنے نصاب میں پختگی حاصل کرلیتا ہے تو۔وہ صاحب رائے بن جاتا ہے۔وہ اپنے نظریات اوت تعلیم کی روشنی میں دوسروں کی آراء کو پرکھتا ہے۔علم میں پختہ لوگو ہر کسی کی بات سن کر اپنے نظریات نہیں بدلا کرتے اس لئے سب سے پہلے کسوٹی اور پیمانہ والے بنو تاکہ لوگوں کی کثرت رائے کو اپنی مرضی کے مطابق پرکھ سکو۔اگر ایسا نہ ہوا تو تم کبھی کسی میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام نہیں دے سکتے۔

Comments

Popular posts from this blog

درجات مرض و درجات دوا